column in urdu Current Challenges Future Possibilities 0

نیا عالمی نظام New World Order موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات. جی ایم ایڈوکیٹ
ورلڈ آرڈر (World Order) سے مراد دنیا میں طاقت، قوانین اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کا وہ مجموعی نظام ہے جس کے تحت ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں، تنازعات حل کرتے ہیں اور عالمی معاملات چلائے جاتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یہ وہ طریقۂ کار یا ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی بڑی طاقتیں، بین الاقوامی ادارے اور قوانین مل کر عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے معاملات کو منظم کرتے ہیں۔ اس نظام میں طاقتور ممالک کا اثر زیادہ ہوتا ہے، جبکہ کمزور ممالک عموماً اسی عالمی نظام کے قواعد کے تحت اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں۔ عالمی نظام (World Order) کو سمجھانے کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ حقیقت پسندی (Realism) کے مطابق عالمی نظام طاقت کے توازن پر قائم ہوتا ہے، جہاں بڑی طاقتیں عالمی سیاست کی سمت طے کرتی ہیں؛ اس تصور کو Hans Morgenthau اور Kenneth Waltz جیسے مفکرین نے واضح کیا۔ اس کے برعکس لبرل ازم (Liberalism) یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ بین الاقوامی ادارے، قوانین اور باہمی تعاون عالمی نظام کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کی مثال United Nations جیسے ادارے ہیں۔ جبکہ (Constructivism) کے مطابق عالمی نظام صرف طاقت سے نہیں بلکہ ریاستوں کے خیالات، شناختوں اور مشترکہ اقدار سے بھی تشکیل پاتا ہے، جیسا کہ Alexander Wendt نے بیان کیا۔ یوں مختلف نظریات عالمی نظام کو طاقت، قانون اور نظریاتی تصورات کے امتزاج کے طور پر سمجھاتے ہیں. عالمی نظام (World Order) کا تصور بتدریج تاریخی واقعات اور عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات سے ابھرا۔ اس کی ابتدائی بنیاد 1648ء کے Peace of Westphalia سے جوڑی جاتی ہے، جس نے خودمختار ریاستوں کے اصول کو تسلیم کیا اور جدید ریاستی نظام کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں یورپ میں طاقت کے توازن کی سیاست نے عالمی نظم کو شکل دی، جبکہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی کوشش کی گئی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد United Nations کے قیام اور بڑی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن نے جدید عالمی نظام کو مزید واضح کیا۔ اس طرح World Order کا تصور دراصل تاریخ کے مختلف ادوار میں طاقت، قانون اور بین الاقوامی اداروں کے امتزاج سے تشکیل پاتا رہا ہے۔ تاریخ میں عالمی سیاست کے ماہرین عموماً چند بڑے World Orders کی نشاندہی کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں طاقت کے توازن اور عالمی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوئے۔ پہلا جدید عالمی نظم 1648ء کے Peace of Westphalia کے بعد وجود میں آیا جس نے خودمختار ریاستوں کے اصول کو بنیاد بنایا۔ دوسرا بڑا عالمی نظم 1815ء کے Congress of Vienna کے بعد یورپ میں طاقت کے توازن (Balance of Power) کے تصور پر قائم ہوا۔ تیسرا عالمی نظم دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پایا جب United Nations اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ایک نیا عالمی ڈھانچہ قائم کیا گیا جس میں امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگی دو قطبی طاقت نمایاں تھی۔ سرد جنگ کے خاتمے (1991ء) کے بعد ایک چوتھا دور سامنے آیا جسے بعض ماہرین امریکی قیادت والے یک قطبی عالمی نظام (Unipolar World Order) کے طور پر بیان کرتے ہیں، جبکہ آج کی دنیا بتدریج ایک کثیر قطبی (Multipolar) عالمی نظام کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں ایک نیا عالمی نظام قائم ہوا جس میں طاقت کا توازن دو بڑی طاقتوں کے گرد گھومنے لگا۔ ایک طرف United States اور اس کے مغربی اتحادی تھے، جبکہ دوسری طرف Soviet Union اور اس کے سوشلسٹ اتحادی ممالک تھے۔ اس طرح دنیا عملاً دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو گئی: ایک سرمایہ دارانہ مغربی بلاک اور دوسرا کمیونسٹ مشرقی بلاک۔ اسی دور کو سرد جنگ (Cold War) کا زمانہ کہا جاتا ہے، جس میں براہِ راست بڑی جنگ کے بجائے سیاسی، عسکری اور نظریاتی مقابلہ جاری رہا، جبکہ عالمی سطح پر United Nations جیسے اداروں کے ذریعے بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی. دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر رکھی گئی جنہیں اکثر اس عالمی نظم کے Golden Principles کہا جاتا ہے۔ ان میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، طاقت کے استعمال سے گریز، تنازعات کا پرامن حل، بین الاقوامی تعاون، انسانی حقوق کا تحفظ اور اجتماعی سلامتی جیسے اصول شامل تھے۔ یہ اصول خاص طور پر United Nations کے چارٹر میں واضح طور پر درج کیے گئے، جن کا مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں عالمی جنگوں کو روکا جائے اور عالمی امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم بین الاقوامی ادارے تشکیل دیے گئے۔ ان میں سب سے مرکزی ادارہ United Nations ہے جس کا مقصد عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا اور تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ اسی دور میں عالمی معیشت کو منظم کرنے کے لیے International Monetary Fund اور World Bank قائم کیے گئے، جبکہ تجارت کے اصولوں کو منظم کرنے کے لیے بعد میں World Trade Organization وجود میں آئی۔ ان اداروں کا مقصد عالمی سطح پر سیاسی استحکام، معاشی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک منظم عالمی نظام قائم رکھنا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام میں کئی اہم بین الاقوامی قوانین اور اصول وضع کیے گئے جن کا مقصد جنگوں کو روکنا، انسانی حقوق کا تحفظ کرنا اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کو ضابطے میں لانا تھا۔ ان میں سب سے بنیادی دستاویز United Nations Charter ہے جس نے طاقت کے استعمال پر پابندی، ریاستوں کی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل جیسے اصول متعارف کرائے۔ اسی طرح انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے Universal Declaration of Human Rights پیش کی گئی، جبکہ جنگ کے دوران شہریوں اور قیدیوں کے تحفظ کے لیے Geneva Conventions کو بین الاقوامی قانون کی بنیاد بنایا گیا۔ بعد ازاں عالمی سلامتی کو برقرار رکھنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے Treaty on the Non-Proliferation of Nuclear Weapons جیسے معاہدے بھی اسی عالمی نظام کا حصہ بنے۔ یہ قوانین دراصل اس کوشش کی علامت تھے کہ عالمی سیاست میں طاقت کے بجائے قانون اور اصولوں کو مرکزی حیثیت دی جائے. ناقدین کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد بنائے گئے کئی بین الاقوامی اصولوں کے باوجود بعض مواقع پر طاقتور ریاستوں بالخصوص United States کی پالیسیوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے ان اصولوں کی روح کو نظر انداز کیا۔ مثال کے طور پر 2003 میں Iraq War کو اکثر اس بحث میں پیش کیا جاتا ہے کہ اسے واضح بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے بغیر شروع کیا گیا، جس پر United Nations کے چارٹر کے اصولوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ اسی طرح Vietnam War، War in Afghanistan اور دیگر خطوں میں سینکڑوں مداخلتوں پر بھی عالمی سطح پر بحث ہوتی رہی جیسے حال ہی میں ونیزویلا کے صدر مادورو کا اغوا جیسے اقدامات کہ آیا یہ اقدامات ریاستی خودمختاری اور طاقت کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی حدود کے مطابق تھے ناقدین انہیں عالمی نظام میں طاقت کی بالادستی کی مثال قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کا پچھلے دو سال سے غازہ پر بمباری اور تباہی ابھی امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت، اسکول کے بچیوں پر بمباری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور سیولین پر کارپٹ بمباری کسی طور بھی متزکرہ بالا بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں بلکہ Might is Right والا جنگل کا قانون لگتا ہے اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی روح سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر United Nations Charter کے تحت کسی خودمختار ریاست کی سرزمین پر طاقت کے استعمال کی اجازت صرف دو صورتوں میں دی جاتی ہے: یا تو واضح خود دفاع کی حالت میں یا پھر United Nations Security Council کی منظوری سے۔ اس تناظر میں اگر کسی ملک کی سرزمین پر یکطرفہ فضائی حملے، ٹارگٹڈ اسٹرائیکس یا عسکری تنصیبات پر کارروائیاں بغیر بین الاقوامی منظوری کے کی جائیں تو انہیں ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح شہری آبادی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں Geneva Conventions کے اصول خصوصاً شہریوں کے تحفظ اور متناسب طاقت کے استعمال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر قانونی اور اخلاقی بحث مزید شدت اختیار کر لیتی ہے۔ آج اکیسویں صدی میں بھی “Might is Right” کا تصور عالمی سیاست میں نمایاں نظر آتا ہے، جہاں بدمست ہاتھی امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی دھجیاں اڑاتا نظر آتا ہے۔ کمزور ممالک پر کبھی عسکری کارروائیاں کرتا ہے، کبھی معاشی پابندیاں یا سفارتی دباؤ بڑھاتا ہے اس طرح عملی دنیا میں کمزور ممالک پر طاقتور فریق کی بالادستی واضح ہے۔ ایران امریکہ اسرائیل جنگ نے دکھا دیا کہ قانونی اصول اور بین الاقوامی معاہدے موجود تو ہیں، مگر طاقتور ممالک کی حکمتِ عملی اور مفاد پرستی کے سامنے ان کا اثر کمزور رہ جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ “طاقت ہی حق ہے” کا اصول آج بھی عملی سیاست میں اپنا تسلط رکھتا ہے۔ تو پھر یہ قدرتی بات ہے کہ موجودہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ اور بے کنٹرول عالمی سیکورٹی کشیدگی جیسے حالات کے بعد دنیا کا ایک نئے عالمی توازن یا New World Order کی طرف بڑھنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ پرانے نظام میں طاقتور ممالک کے اصول اور بین الاقوامی قوانین کمزور ممالک کی حفاظت نہیں کر سکے، اور اب عالمی سیاسی، عسکری اور اقتصادی محور بدل رہا ہے۔ نئے آرڈر میں ممکن ہے کہ طاقت کی تقسیم، علاقائی اثرورسوخ اور بڑے ممالک کے درمیان اتحاد و ٹکراؤ نئے اصول اور ڈھانچے متعین کریں، تاکہ عالمی سیاست کی سمت مستقبل میں زیادہ مستحکم یا کم از کم واضح ہو۔ اس کے علاوہ دنیا کا سب سے مظبوط اتحاد NATO بھی امریکی من مانیوں کی وجہ سے اب پہلے جیسا مضبوط اور ہم آہنگ نہیں رہا۔ امریکی یک طرفہ پالیسیاں، بعض فیصلوں میں اتحادی ممالک کی رائے کو نظر انداز کرنا، اور عالمی مسائل میں امریکہ کی اپنی ترجیحات کو فوقیت دینا، NATO کے اندر اختلافات اور شکوک و شبہات کو بڑھا گیا ہے۔ اگرچہ رسمی طور پر یہ اتحاد موجود ہے، عملی سطح پر رکن ممالک کے مابین اعتماد اور یکجہتی پہلے جیسی نہیں رہی، جس سے NATO کی مؤثریت اور مشترکہ حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ گرین لینڈ پر امریکی دلچسپی اور اس سلسلے میں یک طرفہ بیانات نے یورپ اور امریکہ کے درمیان تحفظات کو بڑھایا ہے۔ اگرچہ یہ فوری طور پر کسی رسمی تقسیم کا باعث نہیں بنے گا، مگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے مفادات اور ترجیحات میں فرق واضح ہو رہا ہے۔ مستقبل میں اگر ایسی یک طرفہ پالیسیاں جاری رہیں تو عملی طور پر امریکہ اور یورپ کے درمیان سیاسی و عسکری تعاون کمزور ہو سکتا ہے، اور وہ دو علیحدہ محاذ یا اتحادی فریم ورک کی طرف بڑھ سکتے ہیں. موجودہ عالمی کشیدگی اور امریکہ-یورپ تقسیم کے تناظر میں نئی طاقتیں اور بلاکس ابھرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ چین اور روس جیسی طاقتیں متبادل اقتصادی و عسکری بلاکس تشکیل دے سکتی ہیں، جبکہ بھارت، ایران، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک علاقائی اثرورسوخ بڑھانے کے لیے نئے اتحادوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بعض ممالک بھی خودمختار سیاسی اور اقتصادی پلیٹ فارمز قائم کر کے امریکہ-یورپ کے اثرورسوخ کو چیلنج کر سکتے ہیں، جس سے ایک کثیرالطرفہ مگر متحرک عالمی بلاک سسٹم ابھر سکتا ہے۔۔ چین اور روس کے بلاک میں شامل ہونے والے ممکنہ ممالک عموماً وہ ہیں جو امریکہ اور مغربی اتحاد سے دور رہنا چاہتے ہیں یا جو اقتصادی و سکیورٹی مفادات کی بنیاد پر اس بلاک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں بھارت، بیلاروس، ایران، شمالی کوریا، قازقستان، سری لنکا، ممکنہ طور پر پاکستان اور بعض وسطی ایشیائی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ اس بلاک کا مقصد مغربی اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنا، اقتصادی شراکت داری بڑھانا اور عسکری تعاون کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنی طاقت کا دائرہ وسیع کرنا ہو سکتا ہے۔مسلم دنیا میں بلاک بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں ایران، ترکی، پاکستان، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نمایاں ہیں۔ یہ ممالک مشترکہ اقتصادی، دفاعی اور سیاسی مفادات کے تحت ایک مضبوط مسلم بلاک تشکیل دے سکتے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف علاقائی توازن قائم کرنا بلکہ عالمی سطح پر مسلم دنیا کی مؤثر آواز اور خودمختاری کو مضبوط کرنا ہو سکتا ہے۔ ایسے اتحاد کے ذریعے مسلم ممالک اپنی داخلی سالمیت اور بیرونی دباؤ سے تحفظ حاصل کر سکتے ہیں. پاکستان کے لیے سب سے بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ وہ کسی ایک بلاک میں مکمل طور پر منسلک ہونے کے بجائے کثیرالجہتی اور متوازن تعلقات قائم کرے۔ چین و روس کے بلاک سے اقتصادی و دفاعی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر تجارتی اور سیاسی توازن قائم رکھا جا سکتا ہے۔ یوں پاکستان نہ صرف اپنی سکیورٹی اور معیشت کو مضبوط کر سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں خودمختار اور لچکدار کردار ادا کرنے کے قابل بھی رہے گا۔ موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بین الاقوامی قوانین صرف دستاویزی اصول نہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک لازمی ڈھانچہ ہیں۔ تاہم عملی دنیا میں بڑی طاقتیں اکثر ان قوانین کو اپنے مفادات کے مطابق نظر انداز کرتی ہیں، جس کی وجہ سے کمزور اور درمیانے درجے کی ریاستیں اس نظام میں غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ ایسے میں بین الاقوامی قوانین کو از سر نو مرتب کرنا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ طاقتور ممالک کے ذریعے کمزور ممالک پر بلاجواز جنگ، اقتصادی دباؤ یا داخلی مداخلت کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ قوانین صرف اخلاقی دعووں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان پر شفاف نفاذی میکانزم، فوری بین الاقوامی جوابدہی، اور غیر جانبدارانہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ مزید یہ کہ عالمی قوانین کی جدید شکل میں طاقت کے استعمال کے اصول، ریاستی خودمختاری، انسانی حقوق اور عالمی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یکجا کرنا ضروری ہے۔ ایسا نظام نہ صرف جارحانہ کارروائیوں کو محدود کرے گا بلکہ طاقتور اور کمزور ریاستوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ موجودہ عالمی بحران جس میں امریکہ، اسرائیل اور دیگر طاقتور ممالک کے اقدامات نے متعدد خطوں میں انسانی اور سیاسی تناؤ پیدا کیا ہے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف بیانات یا طویل مدتی قراردادیں کافی نہیں، بلکہ لازمی طور پر ایک عملی اور قابلِ نفاذ عالمی فریم ورک New World Order وضع کرنا ہوگا، جو کسی بھی ریاست کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر قانون کو پسِ پشت ڈالنے سے روکے۔
جی ایم ایڈوکیٹ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Current Challenges Future Possibilities

نوجوان اور وطن سے محبت . منظور نظرؔ

گلگت بلتستان: مفت سولر اسکیم کا ڈراپ سین، عوام میں تشویش

شگر ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحق اور نادار خاندانوں کی مدد کے لیے بلتستان ریجن میں فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں. پاک ایڈ ویلفیئر ٹرسٹ

50% LikesVS
50% Dislikes

نیا عالمی نظام New World Order موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات. جی ایم ایڈوکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں