گلگت بلتستان میں آئینی فقدا. ، محسن علی شگری
گزشتہ 75 برسوں سے گلگت بلتستان آئینی کشمکش کا شکار ہے۔ اس علاقے میں پہلی بار 2009ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ایک آئینی مسودہ منظور ہوا، جس میں اس علاقے کا اصلی نام ‘گلگت بلتستان’ واپس دے دیا گیا اور نوآبادیاتی نظام ختم کر دیا گیا۔ اس آئین کے تحت علاقے کے لیے اپنی اسمبلی، گورنر اور وزیراعلیٰ کا تقرر کیا گیا۔ یہ نظام باہر سے تو ایک مضبوط آئینی ڈھانچہ نظر آتا تھا، لیکن اندر سے کھوکھلا تھا۔
عوام کو جب اس کی خبر ہوئی تو تب تک حکومت بدل چکی تھی اور عوام نے آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور عوام نے مساوی آئینی حقوق کا مطالبہ شروع کر دیا۔ حکومت نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، مشکلات حل کرنے کی کوشش کی اور ایک نیا حکمنامہ متعارف کرایا، جسے بعد میں ‘2018ء کا مسودہ’ کہا گیا۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ آرڈر خطے میں سیاسی بااختیاری اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنائے گا۔ لیکن اصل میں دیکھا جائے تو اس ڈرافٹ میں 2009ء کے مسودے میں دیے گئے بہت سے اختیارات واپس لے لیے گئے تھے اور گلگت بلتستان کو وفاق کی رحم دلی پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ مسودہ آج بھی نافذ ہے اور اسی وجہ سے گلگت بلتستان کی مشکلات دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ نہ یہاں کی اسمبلی کوئی آئین تشکیل دے سکتی ہے اور نہ ہی نافذ کر سکتی ہے۔ اس خطے کے متعلق جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، وہ اسلام آباد میں ہوتا ہے۔ اس ڈرافٹ کے نافذ ہونے کے بعد بھی سپریم کورٹ میں متعلقہ مقدمات زیر سماعت رہے۔
جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو سپریم کورٹ نے اس ڈرافٹ پر سوال اٹھائے اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک نظرثانی شدہ فریم ورک پیش کرے۔ اس کے نتیجے میں 2019ء کا مسودہ سامنے آیا اور عدالت نے اس کی توثیق بھی کر دی تھی، لیکن حکومت اسے نافذ کرنے میں ناکام رہی۔ یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام اسلام آباد میں ہونے والے فیصلوں کے آگے پس رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ آج بھی اسی متنازعہ ڈرافٹ کے تحت چل رہا ہے۔
اسی طرح کے غیر فعال آئین اور مستحکم آئین نہ ملنے کی وجہ سے یہاں کے عوام روز بروز حکومت اور ملک کے خلاف ہو رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال تحریک طالبان تھنگ اور تحریک بلاورستان ہے، جو اس وقت گلگت بلتستان میں جڑ پکڑ چکی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب گلگت بلتستان کے عوام بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کی طرح مکمل بغاوت پر آمادہ ہو جائیں اور اس کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔
گلگت بلتستان کی ان تمام مسائل کو یہاں کے سیاسی نمائندے اور بڑی پارٹیوں کے سربراہ حل کر سکتے ہیں، اگر وہ 2019ء کے منظور شدہ ڈرافٹ کو نافذ کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس علاقے کو اس کا حق ملے۔ لیکن وفاق ہر بار اپنے تابع کار رہنماؤں کی مدد سے کھوکھلے دعوے کرتا ہے اور عوام دوبارہ دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں گلگت بلتستان کی آنے والی الیکشن اس علاقے کی نظامِ حکومت کو ازسرنو تعمیر دے سکتے ہیں۔ علاقے کا مستقبل اب تینوں بڑی پارٹیوں کے منشوروں میں موجود ہے، جو شائع ہو چکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے باشعور عوام کا فرض ہے کہ انہیں پڑھ کر فیصلہ کریں کہ کون سی جماعت ہمارے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے کسی بھی جماعت کے منشور میں گلگت بلتستان کو خودمختار صوبہ بنانے کی بات نہیں، جو لمحہ فکریہ ہے۔
ہر جماعت پر لازم ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو خودمختار صوبہ بنانے کی شفاف اور واضح فریم ورک شائع کرے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ آگاہی مہم چلائیں تاکہ یہ الیکشن کا موقع ضائع نہ ہو اور مکمل آئینی حقوق و نمائندگی کے لیے ایک پراعتماد راستہ طلب کیا جائے۔
column in urdu Constitutional Vacuum in Gilgit-Baltistan
>گلاب پور اور وزیر پور میں بدترین لوڈشیڈنگ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف
>رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔




