فکرِ فردا ، خوف کی زنجیر یا شعور کی پرواز؟ یاسمین اختر طوبیٰ، ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلا سوال جو اس کے دل میں انگڑائی لیتا ہے، وہ مستقبل کا سوال ہوتا ہے۔ کل—جو ابھی آیا نہیں—مگر آج کے وجود پر سایہ بن کر چھا جاتا ہے۔ یہی سایہ فکرِ فردا کہلاتا ہے۔ ایک ایسی سوچ جو اگر روشنی بن جائے تو راستے دکھاتی ہے، اور اگر دھند میں بدل جائے تو حال کو بھی اجنبی بنا دیتی ہے۔
وقت کے کاغذ پر انسان نے ہمیشہ کل کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی خوابوں کے رنگ بھرے، کبھی اندیشوں کی سیاہی۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کل کی فکرمندی آج کی سانسوں پر بھاری پڑنے لگتی ہے۔ مرزا غالبؔ کی صدا صدیوں بعد بھی دل کے نہاں خانوں میں گونجتی ہے:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
یہ صرف ایک شعر نہیں، انسانی روح کی وہ کیفیت ہے جس میں خواہشات کا ہجوم انسان کو اس قدر تھکا دیتا ہے کہ موجود لمحہ اس کی گرفت سے پھسل جاتا ہے۔ آج کا انسان بھی اسی بے نام تھکن کا شکار ہے—وہ حال میں موجود ہے، مگر ذہن ہمیشہ آنے والے کل میں بھٹکتا رہتا ہے۔
اخبار اگر محض خبروں کا مجموعہ نہیں، تو پھر وہ آنے والے دنوں کی پریشانی بھی ہے۔ ہر سرخی میں مستقبل کے کسی خدشے یا امکان کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ معیشت کے اتار چڑھاؤ ہوں یا سیاست کی بساط، تعلیم کا بحران ہو یا زمین کے زخمی موسم—ہر لفظ ہمیں بتاتا ہے کہ کل ہماری طرف کس روپ میں بڑھ رہا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ ہم کیا پڑھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کیا سمجھتے ہیں اور کیا بدلتے ہیں؟
علامہ اقبالؒ نے اسی مقام پر عقل اور شعور کے درمیان فرق واضح کیا:
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
اقبالؒ کے نزدیک محض جان لینا کافی نہیں، جب تک جان لینے کے بعد چلنے کا حوصلہ پیدا نہ ہو۔ ورنہ خبر، خبر ہی رہ جاتی ہے اور فکرِ فردا ایک بے معنی شور بن کر روح پر سوار ہو جاتی ہے۔
اگر اس شور کی گونج سب سے زیادہ کہیں سنائی دیتی ہے تو وہ ہمارے نوجوانوں کے دل ہیں۔ تعلیم کے بعد روزگار کی تنگ گلی، شناخت کی تلاش اور معاشرتی توقعات کا بوجھ—ہر قدم پر سوال کھڑا ہے۔ مگر یہی نوجوان اگر اپنی ذات پر یقین کی شمع روشن کر لیں تو یہی فکرِ فردا ان کے لیے خوف نہیں، سمت بن جاتی ہے۔
اقبالؒ نوجوان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالتے ہوئے کہتے ہیں:
نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
یہ شعر بتاتا ہے کہ بنجر دکھائی دینے والی زمین کے نیچے بھی امکانات کی جڑیں زندہ ہوتی ہیں۔ بس انہیں محنت اور یقین کا پانی درکار ہوتا ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن قوموں نے صرف آنے والے کل کے اندیشوں پر آنسو بہائے، وہ حال کی جنگ ہار بیٹھیں۔ اور جنہوں نے ٹوٹتے حالات میں بھی عمل کا دامن نہ چھوڑا، مستقبل نے خود ان کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ فیض احمد فیضؔ اسی استقامت کو یوں لفظوں میں ڈھالتے ہیں:
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
یہ شعر اعلان ہے کہ حالات چاہے قلم چھین لیں، مگر تخلیق کا عمل نہیں چھین سکتے۔
آخرکار، فکرِ فردا کوئی ایک رخ نہیں رکھتی۔ یہ یا تو خوف کی زنجیر بن کر انسان کو جکڑ لیتی ہے، یا شعور کے پروں میں ڈھل کر اسے بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ ادب ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مستقبل کا بوجھ سر پر نہیں، دل میں امید کی صورت اٹھایا جائے۔ جو آج کو معنی دے لیتا ہے، وہی کل کی تقدیر لکھتا ہے۔
column in urdu, Chains of Fear or the Flight of Consciousness
پشاور ، ڈاکٹر وردہ قتل کیس کے ملزمان کا کوئی مالی یا سائبرکرائم ریکارڈ نہ ملا
گانچھے گیس چلا کر سونے سے میاں بیوی جاں بحق، دلخراش واقعہ کے علاقہ میں سوگ کا سماں




