یادداشت کا کمال۔ ذہانت کا زوال. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
جونہی امتحان کا نام لیا جائے، ہمارے طالب علم کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ کتابیں بوجھ لگنے لگتی ہیں، نیند غائب ہو جاتی ہے اور گھر کا ماحول ایک امتحانی مرکز کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ والدین کی نگاہیں نمبر شیٹ پر جمی ہوتی ہیں، اساتذہ نصاب مکمل کرانے کی دوڑ میں ہوتے ہیں اور طالب علم ایک انجانے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امتحان واقعی علم جانچنے کے لیے ہوتے ہیں یا یہ محض ایک خوفناک رسم بن چکے ہیں جسے نبھانا ہی کامیابی سمجھ لیا گیا ہے؟
ہمارا امتحانی نظام بدقسمتی سے علم سے زیادہ یادداشت کو اہمیت دیتا ہے۔ یہاں سمجھنے، سوال کرنے اور تجزیہ کرنے والا طالب علم اکثر پیچھے رہ جاتا ہے، جبکہ رٹّا لگانے والا بازی لے جاتا ہے۔ پورا سال کتاب سے حقیقی دوستی کرنے کے بجائے طالب علم “اہم سوالات، گائیڈز اور حل شدہ پرچوں” کے سہارے امتحان کی جنگ لڑتا ہے۔ مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح پرچہ حل کر لینا بن جاتا ہے۔ امتحان ختم ہوتے ہی ساری معلومات ذہن سے ایسے غائب ہو جاتی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں، اور علم محض کاغذی نمبروں میں دفن ہو جاتا ہے۔
نمبرز اور گریڈز ہمارے معاشرے میں کامیابی کا واحد پیمانہ بن چکے ہیں۔ والدین فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے بچے نے کتنے نمبر لیے، مگر یہ پوچھنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں کہ اس نے سیکھا کیا ہے، کیا وہ مسائل حل کر سکتا ہے، کیا وہ سوچ سکتا ہے؟ اسی اندھی دوڑ نے امتحان کو علم کا جشن نہیں بلکہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور احساسِ کمتری کا طوفان بنا دیا ہے۔ کم نمبر لینے والا طالب علم خود کو ناکام، نااہل اور کمتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ اصل ناکامی تو ایک ایسا نظام ہے جو مختلف صلاحیتوں کو پہچاننے کے بجائے انہیں کچل دیتا ہے۔
نقل ہمارے امتحانی نظام کا ایک تلخ مگر نمایاں پہلو ہے جس پر اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ کہیں سوالیہ پرچوں کی قبل از وقت فراہمی، کہیں کمزور نگرانی، کہیں سفارش اور کہیں مالی لین دین، یہ سب مل کر امتحان کی حرمت کو پامال کرتے ہیں۔ جب نقل کرنے والا کامیاب اور محنت کرنے والا مایوس ہو تو پھر نظام پر اعتماد کیسے قائم رہے؟ یہ عمل نہ صرف دیانت داری کو ختم کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کامیابی محنت سے نہیں، شارٹ کٹ سے حاصل کی جاتی ہے۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ امتحانی پرچوں میں سوچنے کی آزادی تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ طالب علم کو وہی لکھنا ہوتا ہے جو کتاب میں درج ہو، لفظ بہ لفظ۔ اگر وہ اپنی رائے دے، کسی مسئلے کو مختلف زاویے سے دیکھے یا تنقیدی سوچ کا اظہار کرے تو نمبر کٹنے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ہم ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جو سوال تو حل نہیں کر سکتے، مگر جواب ضرور یاد رکھتے ہیں۔ جو نئی راہیں تلاش کرنے کے بجائے پرانی لکیر پیٹنے کے عادی بن جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا نظام امتحان طالب علم کو ناکامی سے سیکھنے کا موقع نہیں دیتا۔ ایک پرچہ، چند گھنٹے اور مستقبل کا فیصلہ، یہ انصاف نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کی انتہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ تعلیمی نظاموں میں امتحان سیکھنے کے عمل کا حصہ ہوتا ہے، نہ کہ طالب علم کی صلاحیت کا آخری فیصلہ۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس فرسودہ نظام پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں۔ امتحان کو خوف کی علامت بنانے کے بجائے سیکھنے، دریافت اور خود احتسابی کا ذریعہ بنایا جائے۔ ایسے سوالات متعارف کرائے جائیں جو فہم، تجزیے، مسئلہ حل کرنے اور تخلیقی سوچ کو جانچیں۔ عملی کام، پریزنٹیشنز، مباحثے، تحقیقی اسائنمنٹس اور گروپ سرگرمیوں کو امتحانی نظام کا حصہ بنایا جائے تاکہ طالب علم کی اصل صلاحیت سامنے آ سکے اور وہ خود کو محض نمبروں تک محدود نہ سمجھے۔
اساتذہ کی جدید تربیت، شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام، اور والدین کی سوچ میں مثبت تبدیلی اس اصلاح کی بنیاد ہیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اچھے نمبر ہمیشہ اچھے انسان، ذمہ دار شہری یا کامیاب پیشہ ور کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو علم، اخلاق اور عملی شعور کے امتزاج سے حاصل ہو۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ جب تک ہمارا امتحانی نظام طالب علم کو سوچنے، سوال کرنے، غلطی کرنے اور سیکھنے کا حوصلہ نہیں دیتا، تب تک ہم ڈگری یافتہ مگر بے سمت نوجوان ہی پیدا کرتے رہیں گے۔ اگر امتحان واقعی قوم کا مستقبل سنوارنا ہے تو سب سے پہلے اسے خوف، رٹّے اور نمبروں کی قید سے آزاد کرنا ہوگا،کیونکہ زندہ قومیں یادداشت پر نہیں، بصیرت پر ترقی کرتی ہیں۔
column in urdu Brilliance Memory
>بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خواتین کیلئے خوشخبری، سہ ماہی قسط میں ایک ہزار روپے اضافہ




