بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور علماۓ کرام کی ذمہ داری. سید ہ سکینہ عراقی ایڈوکیٹ
Benazir Income Support Programme (BISP) اور Ehsaas Programme پاکستان میں غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے اہم ذرائع ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد بیواؤں، یتیموں، بے روزگار افراد اور کم آمدن والے گھرانوں کو سہارا دینا ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
بلتستان کے تناظر میں
بلتستان کے اکثر محلّوں میں کم از کم 3 سے 4 علماۓ کرام موجود ہوتے ہیں جبکہ ایک محلّے میں تقریباً 25 سے 30 گھرانے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے علماۓ کرام ہر گھرانے کی معاشی حالت سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کون واقعی مستحق ہے اور کون نہیں۔
علماۓ کرام کی عملی ذمہ داریاں
شفافیت کو یقینی بنانا:
محلّے کی سطح پر نگرانی کریں تاکہ کوئی شخص ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے اور اصل حق داروں کا حق محفوظ رہے۔
مستحقین کی درست نشاندہی:
چونکہ گھرانوں کی تعداد کم ہے، اس لیے مکمل تحقیق اور دیانت داری کے ساتھ مستحق افراد کی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے۔
ناجائز سفارش اور دباؤ کی روک تھام:
اگر کوئی بااثر فرد غلط طریقے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو علماۓ کرام اخلاقی جرأت کے ساتھ اس کی حوصلہ شکنی کریں۔
عوامی شعور بیدار کرنا:
خطبات اور دینی اجتماعات میں امانت، دیانت اور حق تلفی کے بارے میں تعلیم دیں تاکہ لوگ خود بھی دیانت داری کو اپنائیں۔
مشاورتی کمیٹی کا قیام:
چند بااعتماد افراد اور علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے جو فہرستوں کی جانچ پڑتال کرے اور مکمل شفافیت برقرار رکھے۔
نتیجہ
اگر بلتستان کے ہر محلّے میں موجود علماۓ کرام اپنی ذمہ داری احساس اور دیانت کے ساتھ ادا کریں تو 25 سے 30 گھرانوں پر مشتمل معاشرے میں شفافیت قائم کرنا مشکل نہیں۔ اس طرح نہ کوئی ناجائز فائدہ اٹھا سکے گا اور نہ ہی کسی مستحق کا حق ضائع ہوگا، بلکہ عدل و انصاف کو فروغ ملے گا۔
column in urdu Benazir Income Support Programm
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ
شگر بازار میں فوڈ ایکٹ 2022 پر عملدرآمد کیلئے چیکنگ مہم، متعدد دکانوں کو وارننگ




