column in urdu, Begging From the Begging Bowl to Dignity 0

گداگری ، کشکول سے کردار تک، سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو محض زندہ رہنے کا نہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا شعور دیتا ہے۔ وہ ہاتھ جو محنت کرے، وہ پیشانی جو خودداری سے بلند رہے اور وہ کردار جو کسی کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ ہو، یہ سب اسلامی معاشرت کے بنیادی ستون ہیں۔ اسی لیے اسلام نے گداگری کو ایک وقتی مجبوری تو مانا، مگر مستقل طرزِ زندگی کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فقر کا مطلب بے عملی نہیں۔ صحابۂ کرامؓ میں ایسے افراد بھی تھے جو انتہائی غربت کا شکار تھے، مگر سوال کرنے کے بجائے محنت کو ترجیح دیتے تھے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ایک موقع پر سوال کرنے والے کو کلہاڑی لا کر دی اور فرمایا کہ جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو، یہ تعلیم محض ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے رہنمائی ہے کہ عزت کے ساتھ کمانا، مانگنے سے بہتر ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

آج کے معاشرے میں گداگری صرف غربت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک منظم پیشہ بن چکی ہے۔ مختلف گروہ، مافیا اور نیٹ ورک اس عمل کو فروغ دے رہے ہیں، جہاں معذوری، بیماری اور مذہب کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔ یہ صرف معاشی جرم نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے، کیونکہ جب جھوٹ، فریب اور استحصال کو ذریعۂ معاش بنا لیا جائے تو کردار کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔

اسلامی ریاست کا تصور بیت المال، زکوٰۃ اور سماجی کفالت پر قائم ہے۔ اگر یہ نظام صحیح طور پر فعال ہو تو کسی فرد کو کشکول اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ افسوس کہ ہم نے عبادات کو تو انفرادی سطح پر محدود کر لیا، مگر سماجی انصاف کو نظرانداز کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مستحق در بدر ہو گئے اور غیر مستحق اس نظام سے فائدہ اٹھانے لگے۔

خواتین اور بچوں کی گداگری ایک الگ اور زیادہ تکلیف دہ باب ہے۔ اسلام عورت کو عزت، پردہ اور تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ بچے کو تعلیم، تربیت اور روشن مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو گود میں لیے سڑک کنارے بیٹھی ہو، یا ایک بچہ ٹریفک سگنل پر ہاتھ پھیلائے کھڑا ہو، تو یہ صرف اس خاندان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اخلاقی شکست ہوتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر جذباتی ردِعمل نیکی نہیں ہوتا۔ اسلام عقل، حکمت اور توازن کا دین ہے۔ اگر ہم بلا تحقیق ہر مانگنے والے کو دے دیں تو ہم دراصل اس نظام کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں جو محنت کی حوصلہ شکنی اور گداگری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اصل خیر خواہی یہ ہے کہ صدقات کو درست مصرف میں لایا جائے،جہاں کسی کی زندگی واقعی بدل سکے۔

معاشرے کے باشعور طبقے، علما، اساتذہ، میڈیا اور والدین سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ گداگری کے خلاف فکری جدوجہد کریں۔ بچوں کو شروع سے محنت، خود انحصاری اور عزتِ نفس کا سبق دیا جائے۔ مدارس، مساجد اور تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر واضح اور متوازن تعلیم دی جائے تاکہ دین کا اصل پیغام عام ہو۔

آخرکار، گداگری کا خاتمہ کسی ایک ادارے یا قانون کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک اجتماعی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے، ایسی اصلاح جو دلوں میں خودداری، ہاتھوں میں ہنر اور نظام میں عدل پیدا کرے۔ جب معاشرہ خیرات سے زیادہ روزگار، ہمدردی سے زیادہ حکمت اور ترس سے زیادہ تربیت کو اہمیت دے گا، تب ہی ہم کشکول سے کردار تک کا یہ سفر طے کر سکیں گے۔

یہی اسلام کی اصل روح ہے، اور یہی ایک باوقار، خوددار اور فلاحی معاشرے کی پہچان۔

column in urdu, Begging: From the Begging Bowl to Dignity

متوقع 28ویں آئینی ترمیم اور متنازعہ علاقوں کی حیثیت. جی ایم ایڈوکیٹ

عمران خان کے سوا کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرأت نہیں، سہیل آفریدی

گلگت بلتستان کی اراضیات، مغل و ڈوگرا راج سے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 تک تاریخی و قانونی جائزہ ، جی ایم ایڈوکیٹ

50% LikesVS
50% Dislikes

گداگری ، کشکول سے کردار تک، سلیم خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں