معمار قوم پریشان. ریٹائرمنٹ کے خواب ادھورے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
لاہور کی سڑکوں پر نظر آنے والے وہ بزرگ اساتذہ، جو اپنی زندگی کے آخری سال قوم کی تعلیم کے لیے وقف کر چکے ہیں، آج ایک ایسے بحران کا شکار ہیں جس کا تصور بھی دل کو رنج پہنچاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری عمر،چھ دہائیوں کی محنت،سرکاری اسکولوں میں گزار دی۔ ان کا خواب یہ تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی چند لاکھ روپے کی رقم سے وہ اپنا چھوٹا سا گھر بنائیں، بچوں کی شادی کریں اور زندگی کے آخری برس سکون کے ساتھ گزاریں۔
یہ وہ معمار ہیں جنہوں نے نسلوں کو تعلیم دی، علم کی روشنی پھیلائی اور ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ہر دن انہوں نے نہ صرف کلاس روم میں بلکہ دلوں میں بھی امنگوں کا بیج بویا۔ لیکن آج، یہی معمار اپنی زندگی کے ان قیمتی لمحوں میں مالی دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔
مگر 2023 میں ایک عبوری حکومت کے نوٹیفکیشن نے ان کے خواب چھین لیے۔ سرکاری ملازمین، خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبے کے وہ اہلکار جنہوں نے معاہدے کے مطابق اپنی زندگی کے بہترین سال پیش کیے، ان کی پنشن اور جمع شدہ رقم پر یکطرفہ کٹوتی کر دی گئی۔ دیگر صوبوں میں جہاں 30 فیصد الاؤنس دیا گیا، صرف پنجاب کے ملازمین اس سے محروم رہے۔
یہ ناانصافی صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ ان کے دلوں اور ذہنوں پر بھی بوجھ ڈال رہی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ساری عمر قوم کی خدمت کی، آج اپنے آخری دنوں میں سکون، عزت اور حق کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو نہ صرف انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی انصاف کے بنیادی اصولوں کو بھی چیلنج کرتی ہے۔
پنجاب حکومت سے التماس ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کرے، ان کے معاہدے کے مطابق ادائیگی یقینی بنائے اور انہیں زندگی کے آخری برس میں سکون دے۔ یہ محنت کش لوگ، جو کبھی قوم کی روشن نسلیں بنانے میں مصروف تھے، آج دل برداشتہ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تمام ہم وطنوں، دوستوں اور ساتھی ملازمین سے درخواست ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پہنچائیں، تاکہ یہ آواز خاموش نہ رہے۔ شیئر کریں، لکھیں، بولیں، تاکہ ہمارے بزرگ اساتذہ کو وہ عزت اور حق مل سکے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔
column in urdu Architect of a Troubled Nation
ہمارے بزرگوں کا نظامِ زندگی اور آج کا بے سکون دور. یاسر دانیال صابری
یادداشت کا کمال۔ ذہانت کا زوال. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




