column in urdu Ancient Iranian Languages 0

قدیم ایرانی زبانیں۔تہذیب کی گمشدہ صدائیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زبان کسی بھی تہذیب کی روح ہوتی ہے۔ اگر تاریخ جسم ہے تو زبان اس کی آواز ہے۔ ایران کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی زبانوں نے نہ صرف سلطنتوں کا ساتھ دیا بلکہ مذاہب، افکار اور تہذیبی اقدار کو بھی نسل در نسل منتقل کیا۔ قدیم ایرانی زبانوں کی داستان دراصل سیاسی عروج و زوال، جغرافیائی فاصلے اور تہذیبی میل جول کی کہانی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

قدیم ایران ایک وسیع خطہ تھا جس کے شمال اور جنوب کے درمیان صحرا حائل تھا۔ یہی جغرافیائی فاصلہ لسانی تقسیم کا باعث بنا۔ چنانچہ ایرانی زبان ابتدا ہی میں دو بڑے دھاروں میں بٹ گئی: اوستا اور قدیم فارسی۔ شمالی ایران میں اوستا پروان چڑھی اور جنوبی ایران میں قدیم فارسی نے سرکاری حیثیت اختیار کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان قدیم زبانوں، اوستا، قدیم فارسی اور بعد کی پہلوی، میں حرف “ل” کا استعمال نہیں ملتا، جو ان کی صوتی شناخت کو نمایاں کرتا ہے۔

اوستا کو ایران کی قدیم ترین مذہبی زبان کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ زرتشتی مذہب کی مقدس کتاب اوستا اسی زبان میں محفوظ ہوئی۔ ماہرین کے نزدیک یہ میدی عہد کی نمائندہ زبان تھی اور قدیم فارسی نے بھی اسی سرچشمے سے فیض پایا۔ ساسانی فرمانروا اردشیر اول نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں تبدیلیاں آچکی تھیں۔ اوستا کا قدیم حصہ “گاتھا” اپنی زبان اور اسلوب کے اعتبار سے زیادہ قدیم اور منفرد سمجھا جاتا ہے۔ اس زبان کی ویدک سنسکرت سے مماثلت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہند و ایرانی اقوام کبھی ایک ہی لسانی و ثقافتی وحدت کا حصہ تھیں۔

قدیم فارسی کا معاملہ مختلف تھا۔ یہ دربار، فوج اور سلطنت کی زبان تھی۔ ہخامنشی سلطنت کے بادشاہوں کے کتبے اسی زبان میں کندہ کیے گئے۔ اس کا رسم الخط میخی تھا، جو اگرچہ آرامی سے متاثر تھا مگر ایرانیوں نے اسے اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لیا۔ قدیم فارسی میں سنسکرت سے مشابہت پائی جاتی ہے، جو اس کے آریائی پس منظر کو واضح کرتی ہے۔ یہ زبان اقتدار کی علامت تھی، اس لیے اس کا دائرہ اثر بھی وسیع تھا۔

ہخامنشی عہد کے زوال کے بعد ایران میں سیاسی تبدیلیاں آئیں۔ یونانی اثرات اور پھر اشکانی و ساسانی ادوار نے ایک نئی لسانی صورت گری کی۔ اسی پس منظر میں پہلوی یا وسطی فارسی سامنے آئی۔ یہ زبان 226ء سے 642ء تک ایران میں رائج رہی اور ساسانی دور میں اپنے عروج پر پہنچی۔ پہلوی دراصل قدیم فارسی ہی کی ارتقائی شکل تھی، مگر اس پر دیگر زبانوں کے اثرات نمایاں تھے۔ آج کی جدید فارسی اسی پہلوی کی وارث ہے، اسی لیے اسے قدیم اور جدید فارسی کے درمیان کی کڑی بھی کہا جاتا ہے۔

پہلوی رسم الخط کی ایک پیچیدگی “ہزوارش” تھی، جس میں الفاظ آرامی میں لکھے جاتے مگر پڑھے پہلوی میں جاتے تھے۔ مثال کے طور پر “ملک” لکھ کر “شاہ” پڑھا جاتا تھا۔ یہ طرز تحریر نہایت دشوار تھا اور اسے سمجھنے کے لیے سیکڑوں علامات سے واقفیت ضروری تھی۔

وسطی فارسی کے مختلف علاقائی روپ بھی تھے، جن میں پارتھی، سوغدی اور سکائی نمایاں ہیں۔ ان بولیوں کی دریافت نے یہ حقیقت آشکار کی کہ شمالی اور جنوبی ایرانی زبانوں میں گہرا فرق موجود تھا۔ بلوچی اور کردی جیسی زبانیں دراصل شمالی ایرانی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ مشرقی ایرانی زبانوں میں سکائی اور پامیر کی بعض زبانیں شامل تھیں۔

قدیم ایرانی زبانوں کی یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی حافظہ بھی ہے۔ اوستا نے میں بھی اپنی نشانیاں چھوڑ جاتی ہیں۔

column in urdu Ancient Iranian Languages

50% LikesVS
50% Dislikes

قدیم ایرانی زبانیں۔تہذیب کی گمشدہ صدائیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں