ایک دور ،ایک وعدہ اور خواب. ثمینہ یونس چھوربٹ گانچھے
ایک عہد، ایک وعدہ پورا ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کا وہ خواب جسے میں نے کبھی دیکھا تھا، آج الحمدللہ پورا ہو گیا۔ اس خواب کی تکمیل میں میرے گھر والوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے مجھے یہ کہہ کر گھر نہیں بٹھایا کہ تم لڑکی ہو، آگے نہیں پڑھ سکتی، بلکہ ہر قدم پر میری حوصلہ افزائی کی۔ میں اپنے گاؤں کی ان چند لڑکیوں میں سے ہوں جنہوں نے ایک ایسے روایتی اور کسی حد تک دقیانوسی کلچر کا مقابلہ کیا جس میں لڑکیوں کو گاؤں سے باہر بھیج کر پڑھانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ الحمدللہ میں اس جدو جہد میں کامیاب بھی ہوئی۔ جب میں میٹرک کر رہی تھی تو ہمارے گاؤں میں سائنس کی کلاسیں موجود نہیں تھیں۔ جو طلبہ سائنس پڑھنا چاہتے تھے انہیں ایک گھنٹہ پندرہ منٹ کا فاصلہ طے کرکے دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا۔ میں نے سائنس پڑھنے کا فیصلہ کیا اور میرے ابو نے میرے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ہمارے علاقے میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک کسی لڑکی کا اکیلے سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ راستے میں جگہ جگہ آرمی چیک پوسٹس بھی تھیں اور فاصلہ بھی خاصا تھا۔ اس لیے ہم دو لڑکیاں اور چار پانچ لڑکے اکٹھے جاتے تھے اور وہ ہمارے لیے محافظ کی طرح ساتھ ہوتے تھے۔ میٹرک کے بعد میں سکردو شہر منتقل ہو گئی۔ اس وقت بھی میں ان چند لڑکیوں میں شامل تھی جو تعلیم کے لیے شہر جا رہی تھیں۔ نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ میرے ابو مجھے ہوسٹل میں نہیں رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس وقت ہمارے گاؤں سے کوئی لڑکی باہر نہیں نکلی تھی اور ہوسٹل کا تصور بھی زیادہ عام نہیں تھا، اس لیے ابو نے مجھے ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرا دیا۔ میرا چھوٹا بھائی بھی پڑھ رہا تھا اور وہ ایک کمرے میں رہتا تھا۔ جب ابو کو محسوس ہوا کہ میرا اور میرے بھائی کا الگ الگ رہنا اور یہ انتظام مشکل پیدا کر رہا ہے تو انہوں نے سکردو شہر میں ہمارے لیے گھر بنا دیا۔ ہم نے کہا تھا کہ کرائے کے گھر میں رہ لیتے ہیں، لیکن ابو کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کو مسئلہ نہ ہو اس لیے اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔ جب میری بی ایس سی مکمل ہوئی تو سب کا خیال تھا کہ اب مجھے مزید نہیں پڑھنا چاہیے۔ میری امی، بہن اور بھائی بھی چاہتے تھے کہ میں تعلیم چھوڑ دوں، لیکن میں پڑھنا چاہتی تھی اور میرے سب سے بڑے سپورٹر میرے ابو تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ نہ مجھے اور نہ ہی میرے ابو کو یونیورسٹی کے داخلے کے طریقہ کار کا زیادہ علم تھا۔ ایک کلچر، ایک سوسائٹی اور ایک گھر کو قائل کرنا اور سب معاملات کو منظم کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا، اسی سارے عمل میں مجھے ایک سال لگ گیا۔ پھر میں نے ایک انجان شہر میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس وقت مجھے بولنا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا اور اس نئے کلچر کو سمجھنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔ میں ہمیشہ یہ سوچ کر خود کو سنبھالتی تھی کہ میں اپنے خاندان اور اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہوں جو شہر میں پڑھنے آئی ہے، اس لیے مجھے ایک مثال بننا ہے۔ پڑھائی مجھے مشکل نہیں لگتی تھی لیکن اس کلچر میں خود کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا۔ بالآخر میں نے ایم ایس سی مکمل کر لی، مگر میں وہیں رکنا نہیں چاہتی تھی، میں ایم فل کرنا چاہتی تھی۔ ایم ایس سی کے دوران میں نے جیسے ایک دریا عبور کیا تھا اور اب میرے سامنے ایک سمندر تھا۔ اسی دوران کورونا بھی آ گیا۔ ایک بار پھر گھر والوں کو منانا پڑا۔ گھر والے تو مان جاتے ہیں لیکن سوسائٹی کبھی کبھی زیادہ مشکل بن جاتی ہے۔ تقریباً دو سال لگا کر میں نے گھر والوں کو راضی کیا اور کچھ پیسے بھی خود کمائے۔ اس بار پورے گاؤں کو تشویش تھی۔ ہر کوئی یہی کہتا تھا: اتنا پڑھ کر کیا کرو گی؟ لڑکی ذات ہو۔ عمر گزر رہی ہے۔ شادی کب کرو گی؟ اتنا پڑھ کر ملا کیا ہے؟ لیکن میں نے ان سب باتوں کا مقابلہ کیا اور آخرکار ایم فل میں داخلہ لے لیا۔ الحمدللہ اب میری ایم فل مکمل ہو چکی ہے اور ساتھ ہی میں نے بی ایڈ بھی کر لیا ہے۔ اب تقریباً دو سال بعد میں اپنی ایم فل کی ڈگری لے کر گھر جا رہی ہوں۔ ہم گاؤں کی ان چند لڑکیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے معاشرے کے اصولوں کے ساتھ جدوجہد کی، لوگوں کی باتیں سنیں اور شہر آ کر یونیورسٹی، ہوسٹل اور سبجیکٹ کے انتخاب جیسے مراحل میں بہت سی مشکلات برداشت کیں۔ لیکن آج الحمدللہ صورتحال بدل چکی ہے۔ اب گاؤں سے ہر دوسری لڑکی شہر جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہے اور مختلف یونیورسٹیوں اور مختلف شعبوں میں پڑھ رہی ہے۔ اب گاؤں کی سطح پر طلبہ کی ایک تنظیم بھی بن چکی ہے جو ہر مرحلے پر طلبہ کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ سب میرے خاندان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا، خاص طور پر میرے ابو کی۔ اکثر لوگ گھر والوں کو ایسی باتیں کہہ جاتے تھے جن سے وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے تھے جیسے: یہ جو پڑھ رہی ہے اس سبجیکٹ میں نوکری نہیں ہے، راولپنڈی کا ماحول ٹھیک نہیں ہے، لڑکی کو ہوسٹل میں نہیں رکھنا چاہیے۔ لیکن ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ ڈگری تو حاصل ہو گئی، مگر اب سوسائٹی پوچھے گی: اتنا پڑھ کر ملا کیا؟
column in urdu An Era, a Promise, and a Dream
دیدہ بینا۔بینائی سے بصیرت تک. سلیم خان



