گریجویشن کے بعد بندہ کریں تو کیا کرے. طہٰ علی تابش بلتستانی
23 فروری 2026ء
یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں گریجویشن کے بعد نوکری ملنا ایسا ہے، جیسے سمندر میں سے صاف پانی تلاش کرنا۔
پتا ہے، ہمیں بچپن سے ہی غلط راستہ دکھایا گیا تھا۔ اسی لیے ہمارے نوجوان نسل کا ایک تہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ہمیں بچپن سے ہی بتایا گیا کہ میٹرک کے بعد آگے پڑھائی آسان ہے، کتابیں کم ہیں، ہوم ورک نہیں کرنا پڑتا۔ میٹرک میں پہنچے تو پتا چلا، یہاں تو گدھوں کی ریس لگی ہوئی ہے۔ سب نمبروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
گھر اور اسکول میں یہ بتایا جاتا کہ میٹرک کے بعد پڑھائی حلوہ ہے۔ پھر سوچا، چلیں یہ حلوہ کھا کر دیکھ لیتے ہیں۔
اور حلوہ اس قدر میٹھا تھا کہ پورے کالج میں سترہ لڑکے پاس ہو سکے، باقی سب کی سپلی۔
پھر ہمیں بتایا گیا کہ یونیورسٹی لائف مزے کی ہوتی ہے، وہاں تو بس عیش ہے۔ بس ٹیچر کو اعتماد میں لاؤ، باقی مفت میں نمبر مل جائیں گے۔
اور بچی کھچی ذہنی سکون یونیورسٹی والوں نے تباہ کیا۔
ابھی یونیورسٹی کی کلاس سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ نوٹیفکیشن آیا کہ مڈ ٹرم شروع ہو چکی ہے۔ مڈ ٹرم دینے کے کچھ ہی ہفتے بعد وہی محشر کا معاملہ: اسائنمنٹ، پریزنٹیشن، موک ٹیسٹ، وائیوا وغیرہ۔ ابھی اس صدمے سے باہر نکلے ہی نہیں تھے کہ فائنل کے نوٹیفکیشن آنکھوں کے سامنے ڈانس کرنے لگتے۔ اور جو یونیورسٹی میں رومانس کرنے آتے تھے، وہ دوسرے سمسٹر میں ڈراپ ہو کر زندگی کا رومانس بن جاتے۔
پھر سوچا!!
چلیں یونیورسٹی سے فارغ ہو جائیں گے، کم از کم نوکری تو اچھی مل جائے گی۔
پھر کیا!!
سینہ تان کر ڈگری لے کر نوکری والے میدان میں گھسے تو پتا چلا، او خدا! یہاں تو ایم فل، پی ایچ ڈی والے بے روزگار پھر رہے ہیں اور ہمارے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ بیشتر دفعہ ہمارا چہرہ اور یونیورسٹی دیکھ کر درخواست مسترد کر دیتے۔
اور کبھی ہمیں سب کچھ آتا، لیکن یہ کہہ کر مسترد کر دیتے کہ “صاحب! آپ کے پاس ڈگری تو ہے، لیکن تجربہ ہی نہیں ہے۔”
اور ادھر گھر والے اِس قدر توقعات رکھتے کہ بس ڈگری کے بعد ہمارے بیٹی کا بیٹے کو لاکھوں کی کوئی نوکری مل جائے گی، جیسے ابا کی کوئی ذاتی کمپنی ہو۔ اور لوگوں کا تو پوچھنا مت ! ہر ملنے والا شخص یہی پوچھتا کہ “ہاں صاحب! کہاں نوکری کر رہے ہیں؟ کوئی کام کاج؟”
یہ وہ آواز ہوتی تھی، جو سیدھا سینے پر لگتی تھی۔
دل کرتا کہ ہر ایسے بولنے والے کا گلا گھونٹ کر چپ کرا دیتے، لیکن کرے تو کیا کرے؟ ہے تو بے روزگار۔
پھر اللہ اللہ کر کے کسی پرائیویٹ اسکول میں سات، آٹھ ہزار کی نوکری مل جاتی تو شکر کرتے کہ چلو اب آسانی ہو گی۔
جب وہاں گھس گئے تو پتا چلا “یہ مافیا تو اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔”
سات ہزار روپے دے کر سات پیریڈ، آٹھ گھنٹے ڈیوٹی، ہر دوسرے دن میٹنگ، بدتمیز بچے، بدتمیز والدین اور پرنسپل صاحب/صاحبہ کو بس اللہ تعالیٰ نے عزرائیل نہیں بنائے، ورنہ وہ موت کا ہار بھی آپ کو پہنا لیتے۔
بچے نہ آئیں تب بھی آپ ذمہ دار، ہوم ورک نہ کریں تب بھی آپ ذمہ دار، صفائی سے نہ آئیں تب بھی آپ ذمہ دار، یہاں تک کہ گھر سے سیکھی گالی کلاس میں بولیں تب بھی آپ قصور وار۔
اور تنخواہ کا اصول تو یہ ہے کہ آپ کو ہر مہینے کی گیارہ تاریخ کو ملنی ہے، اس سے پہلے تو آپ مانگ ہی نہیں سکتے۔ اور بعض تو اِس قدر کم ظرف ہیں کہ وہی آٹھ ہزار روپے دینے میں موت ڈال دیتے ہیں۔
خیر، عزیزو!
ایک التجا ہے کہ اگر آپ کا کوئی بچہ کسی پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا ہے تو خدارا وہاں کے اساتذہ سے بدتمیزی نہ کریں۔ یہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے، جو ایک ہی وقت میں معاشرے کی گندی ذہنیت سے، گندے نظام سے، بچوں کی بدتمیزیوں سے اور اپنی زندگی سے لڑ رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ادارے بس ڈگریاں بانٹ رہے ہیں، لیکن سکلز نہیں سیکھا رہے۔ پورے بلتستان میں ایک انڈسٹری نہیں کہ وہاں دو ہزار لوگوں کو کام دیا جا سکے۔ اسکول انڈسٹری کا تو میں نے اوپر ذکر کر دیا ہے۔ اور ایک یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ گریجویشن کے بعد سب سے زیادہ لوگ مجبوراً یہی انتخاب کر لیتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گریجویشن کے بعد پھر کیا کرے؟؟
عزیز دوستو!!
کوشش کریں کہ آپ گریجویشن کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر ضرور سیکھو۔ اگر آپ لڑکے ہو تو موبائل کا کام، آن لائن ڈیولپر، مکینک کا کام، درزی کا کام، یا چھوٹا سا اپنا کاروبار یا دیگر پسندیدہ کام سیکھ سکتے ہو۔
اور اگر آپ ایک لڑکی ہے تو آپ بھی متعدد کام، آن لائن آمدنی کے ذرائع، بیوٹی پارلر اور ہزار قسم کے ہنر سیکھ سکتی ہے ۔
کیونکہ میں حقیقت بتا رہا ہوں: بلتستان میں نوکریاں ہیں ہی نہیں، ایک بھی انڈسٹری نہیں ہے۔ ذاتی کاروبار کے لیے ایک گریجویٹ کے پاس پیسے نہیں ہوتے، گھر والے معاون نہیں ہوتے۔ اسلام آباد، راولپنڈی جاؤ تو وہاں اِس سے بھی برا حال ہے۔ سرکاری نوکریاں آتے ہی نہیں، جو آتی ہیں وہ سفارش پر ملتی ہیں یا اُن کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری والے قطار میں لگے ہوئے ہیں۔
تو عزیزو!
گریجویشن کے بعد اگر کوئی آپ سے کہے کہ زندگی حلوہ ہے یا موٹیویشنل اسپیکروں کا سن کر یہ سمجھو کہ سب آسان ہے، تو سمجھ جانا بندہ چورن بیچ رہا ہے ۔
یہ سب بکواسات کرتے رہتے ہیں، کچھ بھی آسان نہیں ہے، بہت زیادہ کمپیٹیشن ہے ۔
لیکن ایک بات آپ نے ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ “رازق اللہ ہے”، تو مایوس نہیں ہونا۔
ہاں، یونیورسٹی میں اپنا وقت محبتوں، افیئرز میں ضائع نہ کریں ، کینٹین والوں کو امیر نہ بناؤ، زیادہ سے زیادہ اپنے پیسے بچا کر رکھو۔ فضول خرچی نہ کرو۔
اگر آپ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہو اور آگے استاد بننے کی خواہش ہے تو کسی اسکول میں بلا معاوضہ پڑھانے جاؤ، وہاں سے تجربہ حاصل کریں۔
نہیں، اگر تم نے آگے کوئی کاروبار کرنا ہے تو اُس کے لیے ابھی سے قدم اٹھاؤ۔
ابھی سے کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھو، کیونکہ ہنر آپ کو کبھی بھوکا نہیں رکھے گا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اِس معاشرے میں ڈگری والوں کی اب کوئی اہمیت نہیں ہے۔
اور یقین جانیں ۔
اگر آپ بے روزگار ہو تو نفرت سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتی ہے۔
تحریر میں اثر ہے تو کم از کم اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔
column in urdu After Graduation
کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید، پولیس موبائل نذر آتش




