درس کربلا بمناسبت شب عاشور، شبیر احمد شگری

درس کربلا بمناسبت شب عاشور، شبیر احمد شگری
urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
حضرت امام حسین علیہ السلام کے عظیم استقامت و حریت کی یاد میں ہم صدیوں سے مجالس اور جلوس عزا کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ سرزمین بلتستان میں بھی عاشورہ کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ جب سے دین مبین اسلام نے سرزمین بلتستان کا رخ کیا ہے، تب سے ہی ہم اہلبیت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے متمسک رہے ہیں۔
اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ کربلا ہمارے لیے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور کربلا نے دین کی بے تحاشا خدمت کی ہے۔ urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
لیکن جیسا کہ ہمارے محترم ڈاکٹر حسن خان اماچہ صاحب نے اپنے فیس بک پوسٹ میں نشاندہی کی ہے کہ ہم نے عاشورہ کو قربانی سمجھ لیا ہے۔ ہم ہمیشہ سے امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور صبر کا سنتے آئے ہیں۔ ہمیشہ امام عالی مقام کی قربانی کا ذکر ہوتا ہے اگرچہ خطبے میں وصیت امام عالی مقام کا ایک حصہ دہرایا جاتا ہے مگر اسے مقصد امام حسین سمجھا نہیں گیا یا سمجھایا نہیں گیا، تبرکاً ذکر کیا جاتا ہے اور مختصر ترجمے پر اختتام۔ نہیں معلوم کہ کب، کا نے اور کیوں مقصد امام حسین علیہ السلام کو قربانی اور صبر تک محدود کیا گیا۔ جبکہ اما۔ عالی مقام نے اپنی وصیت میں بھی اور سفر مدینہ تا کربلا میں بھی متعدد مقامات پر اپنے ہدف اور مقصد کا ذکر فرمایا ہے۔ ذیل میں ہم وصیت امام حسین علیہ السلام کے اس حصے کو موضوع بحث بنائیں گے جس میں مقصد امام حسین علیہ السلام یا مقصد کربلا کو واضح کیا گیا ہے۔ urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
امام فرماتے ہیں:
وَ اِنَّمٰا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلاٰحِ فی اُمَّةِ جَدّی (ص)
اور میں نکلا ہوں، میرے نانا کے امت کی اصلاح کے لیے۔
وصیت امام عالی مقام کے آس حصے میں امام نے منصب، حکومت، شہرت اور دولت کے حصول کی نفی کرنے کے بعد اپنے ہدف کا اعلان کرتے ہیں۔ امت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے مدینہ اور مکہ سے نکلنے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔ امام چاہتے تھے کہ رسول کی امت گمراہ نہ ہو۔ اسلام کی روح کو مسخ ہونے سے روکا جا سکے۔ اسلام کو ذات سے نکال کر دستور حیات کا مقام دلایا جا سکے۔ اسلام کا غلبہ امام علیہ السلام کے پیش نظر تھا۔ امام یزید کے ظلم و ستم اور اسلام سے انحراف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اور یزید چاہتا تھا کہ اس کی فسق و فجور کو امام علیہ السلام کی حمایت حاصل ہو۔ لوگ اسلام کی بنیادی تعلیمات کو بھول چکے تھے اور اسلام ایک ریاست کی حکمرانی تک محدود ہو چکا جس میں کوئی روح موجود نہیں تھی۔
اُریدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
اگلے جملے میں امام نے اپنا مقصد امر بالمعروف کو قرار دیا ہے۔ امام چاہتے تھے اور امام کا ارادہ تھا کہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں۔ گمراہی و ضلالت سے روشنی کی طرف بلائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ الله ان مؤمنین کا ولی ہے جو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ تمہارا ولی الله ہے اس کا رسول ہے اور صاحبانِ امر ۔ لہٰذا امام کا کام ہی لوگوں کو گمراہی سے نجات کی طرف لانا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امر بالمعروف صرف امام کی ذمہ داری ہے۔ یہ تو ہر انسان پر فرض ہے مگر ہمارے معاشرے سے امر بالمعروف مفقود ہو چکا ہے۔ غلطی سے بھی اگر کوئی نیکی کی بات کرے تو اسے خبط الحواس سمجھا جاتا ہے اور خاموشی کو عافیت سمجھتا ہے جبکہ امام علیہ السلام نے امر بالمعروف کے لیے ہی تو قیام فرمایا تھا۔
وَ اَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ
پھر امام علیہ السلام نے نہی عن المنکر کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ دراصل یہ کملہ سابقہ جملے کا دوسرا حصہ ہے۔ اس حصے میں نہی عن المنکر کا اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ اور ہمارا معاشرہ کیا، ممبر بھی نہی عن المنکر کا متحمل نہیں رہا۔ کوئی یہ جرآت ہی نہیں کر پاتا کہ برائی کو روکا جائے ۔ معاشرے کی خرابی کا رونا تو سب روتے ہیں مگر نہی عن المنکر سے سب کی چراتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ معاشرے برے لوگوں کی برائی کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتا بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے تباہ ہوتا ہے۔ مگر ہم من حیت القوم نہی ون المنکر جیسی اہم ترین شرعی ذمہ داری سے یکسر عاری ہو چکے ہیں۔ ہمیں مصلحت پسندی، تعلقات، رشتہ داری اور قرابت داری عزیز ہے جبکہ قرآن نے نوح کے بیٹے کے لیے “لیس من اھلک” کہہ کر دین کے مقابل تمام رشتوں کی نفی کر دیا ہے۔
urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
وَ اَسِیْرَ بسیرَةِ جَدّی وَ اَبی عَلَیِّ بْنِ اَبیطٰالِبٍ
اس کے بعد امام علیہ السلام نے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سیرت پر چلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ گویا امام چاہتے تھے کہ رسول اور وصی رسول کی سیرت پر چلتے ہوئے اصلاح امت کا فریضہ سر انجام دیں۔
اب آپ بتائیں کہ رسول کب مصلحت کا شکار ہوئے تھے؟ علی نے کب عدالت میں سستی کے مرتکب ہوائے تھے۔ علی علیہ السلام کے بارے میں تو مشہور ہے کہ علی کو شدت عدالت نے قتل کیا.
ہمارے ہاں قتل کا خوف بھی نہیں ہے۔ صرف عارضی ناراضگی کا مسئلہ درپیش ہے کہ گے فلان عزیز، دوست یا رشتہ دار ناراض ہوگا۔ اسی خوف سے ہم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی ذمہ داریوں سے جی چرانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔
اہداف امام عالی مقام میں قربانی کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ امام نے یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ وہ دین اسلام کے لیے قربانی دینے کے لیے جا رہے ہیں۔ بلکہ امام ایک دینی معاشرے کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے۔
کربلا رونے دھونے اور ثواب کمانے کے لیے بپا نہیں ہوا۔ نہ ہی امام کا مقصد کربلا بپا کرنا تھا بلکہ امام نے تین واضح مقاصد بیان فرمائے ہیں۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ اہداف امام حسین علیہ السلام پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔ محرم کو قربانی سے نکال کر استقامت و قیام کا درنہ دیں اور مقصد عاشورہ سے بھر پور مستفید ہونے کے لیے پلان کریں۔
urdu news, The lesson Karbala on the occasion of Ashura night, Shabir Ahmed Shigri
نوٹ:
یہ تحریر میری اپنی انڈر سٹینگ ہے۔ اس کو اسی نظر سے دیکھا جائے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں