Karakoram University 472

کے آئی یو پروفیسرز کا مطالبات کے حق میں گلگت پریس کلب کے باہر احتجاج، 21 اکتوبر سے اتحاد چوک پر دھرنے کا اعلان

گلگت: قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پروفیسرز نے اپنے سروس اور پیشہ ورانہ مطالبات کے حق میں گلگت پریس کلب کے باہر پرامن احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران اساتذہ نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ پروفیسرز کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل کے لیے واضح اور قابل عمل روڈ میپ تیار کیا جائے اور کئی کئی سال سے ایک ہی گریڈ میں کام کرنے والے اساتذہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

احتجاج میں شریک پروفیسرز کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو کئی برسوں سے ایک ہی سکیل پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض پروفیسرز اپنی پوری ملازمت اسی سکیل میں مکمل کر دیتے ہیں اور ریٹائرمنٹ تک انہیں ترقی کے مناسب مواقع میسر نہیں آتے۔ احتجاجی اساتذہ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے ایسا نظام ضروری ہے جس میں ترقی، سروس اسٹرکچر اور پیشہ ورانہ مراعات کے حوالے سے واضح پالیسی موجود ہو۔

پروفیسرز نے اپنے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی ادارے یا شخص کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق اور سروس سے متعلق مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیوں میں تدریس، تحقیق اور طلبہ کی علمی تربیت کی ذمہ داریاں نبھانے والے اساتذہ کو اگر طویل عرصے تک ایک ہی گریڈ میں کام کرنا پڑے تو اس سے نہ صرف ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے نظام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

احتجاجی پروفیسرز کا کہنا تھا کہ ملک میں تقریباً چالیس ہزار ایسے پروفیسرز اور اساتذہ موجود ہیں جو مختلف جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کئی کئی سال سے ایک ہی سکیل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اساتذہ ترقی کے منتظر رہتے ہوئے ملازمت کی مدت مکمل کر لیتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے وقت بھی وہی سکیل برقرار رہتا ہے جس میں انہوں نے کئی برس قبل ملازمت شروع کی تھی۔ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک جامع سروس اسٹرکچر اور ترقی کا شفاف طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسرز نے مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل کو محض احتجاج یا وقتی مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے باقاعدہ روڈ میپ کے تحت حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ احتجاجی اساتذہ نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے آئینی اور پرامن طریقہ اختیار کرتے ہوئے متعلقہ فورمز پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی، بجلی کے نرخوں، ٹیکسز اور دیگر عوامی مسائل بھی گزشتہ برسوں میں بڑے عوامی مباحث اور احتجاجی تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ جنوری 2024 کے بڑے عوامی احتجاج کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی سمیت مختلف تنظیموں نے گندم سبسڈی کی بحالی، ٹیکسوں کے خاتمے، بجلی کے بحران کے حل اور دیگر مطالبات پیش کیے تھے۔ اس احتجاج کے بعد حکومت اور احتجاجی نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ گلگت بلتستان میں گندم کی سبسڈی کا معاملہ تاحال عوامی اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کے محکمہ خوراک کی موجودہ معلومات کے مطابق حکومت سبسڈی شدہ گندم کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق سبسڈی شدہ گندم کی موجودہ قیمت 20 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ فی فرد ماہانہ کوٹے کے تعین کے لیے ڈیجیٹل سروے کا عمل جاری ہے۔ محکمہ خوراک نے بتایا ہے کہ حکومتی پالیسی کے مطابق ڈیجیٹل عمل مکمل ہونے کے بعد فی فرد ماہانہ کوٹہ 6.73 کلوگرام مقرر کیا جائے گا۔
احتجاجی پروفیسرز نے اپنے مطالبات کو صرف سروس اسٹرکچر تک محدود نہیں رکھا بلکہ گلگت بلتستان میں عوامی اور معاشرتی نوعیت کے مختلف مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم سبسڈی کا خاتمہ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ریونیو ایکٹ 2022 اور دیگر ایسے قوانین اور پالیسی فیصلے جن کے بارے میں عوامی سطح پر تحفظات پائے جاتے ہیں، ان پر بھی سنجیدہ غور کیا جانا چاہیے۔

پروفیسرز نے نئے انٹرمیڈیٹ بورڈ کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان میں تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے امتحانات اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر ایسا انتظام ضروری ہے جو مقامی تعلیمی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکے۔ نئے بورڈ کے قیام سے متعلق مطالبے کو بھی احتجاجی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور گلگت بلتستان جیسے دور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے مشکل خطے میں تعلیمی اداروں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ کے سروس معاملات کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی سہولیات، امتحانی نظام، تحقیقی مواقع اور انتظامی ڈھانچے کی بہتری پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

پروفیسرز نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہوئی تو 21 اکتوبر سے گلگت کے اتحاد چوک میں احتجاجی دھرنا شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کا مقصد اپنے مطالبات کو حکام تک واضح انداز میں پہنچانا اور متعلقہ اداروں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف لانا ہے۔ اس حوالے سے احتجاجی اساتذہ نے دیگر متعلقہ حلقوں سے بھی مطالبات کی حمایت کی اپیل کی۔

گلگت بلتستان میں اتحاد چوک اس سے قبل بھی مختلف عوامی اور سماجی احتجاجی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ 2024 کے دوران گندم سبسڈی اور دیگر مسائل پر ہونے والے بڑے احتجاجی دھرنوں میں بھی اتحاد چوک نمایاں مقام رہا تھا۔ اس وقت احتجاجی تحریک میں گندم سبسڈی کے علاوہ بجلی کی پیداوار، ٹیکسز، مالیاتی وسائل اور دیگر معاملات شامل تھے۔ حکومتی سطح پر بھی گلگت بلتستان کے مالی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات اور تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ سرکاری معلومات کے مطابق وفاقی سطح پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے این ایف سی طرز کے مالیاتی فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے خطے کے لیے مالی معاونت میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ادھر گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے مختلف مطالبات کے حوالے سے مرحلہ وار اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ جولائی 2026 میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے آل لائن ڈیپارٹمنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات میں ان کے چارٹر آف ڈیمانڈز پر مرحلہ وار عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم یونیورسٹی اساتذہ کے مطابق پروفیسرز کے سروس اسٹرکچر کا معاملہ اپنی نوعیت میں مختلف ہے اور اس کے لیے جامع پالیسی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی کے مواقع واضح نہ ہونے سے اساتذہ میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور طویل عرصے تک ایک ہی گریڈ میں کام کرنے والے پروفیسرز کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کا راستہ محدود ہو جاتا ہے۔ احتجاجی اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت، متعلقہ وزارتوں، ہائر ایجوکیشن کے اداروں اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ان کے مطابق صرف یقین دہانیوں کے بجائے مطالبات کے حوالے سے تحریری اور قابل عمل ٹائم لائن دی جانی چاہیے تاکہ اساتذہ کو معلوم ہو کہ ان کے مسائل کس مرحلے پر اور کس طریقہ کار کے تحت حل ہوں گے۔ پروفیسرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوئے تو یہ نہ صرف اساتذہ بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے شعبے کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔ تاہم مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں 21 اکتوبر سے اتحاد چوک میں دھرنے کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
گلگت پریس کلب کے باہر ہونے والا یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان میں تعلیم، بجلی، گندم، ٹیکسز، مالی وسائل اور انتظامی معاملات پر عوامی سطح پر مختلف مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ متعلقہ حکام پروفیسرز کے سروس اسٹرکچر، نئے انٹرمیڈیٹ بورڈ اور دیگر مطالبات پر کیا عملی پیش رفت کرتے ہیں اور 21 اکتوبر سے اعلان کردہ دھرنے سے قبل مذاکرات کے ذریعے کوئی قابل قبول راستہ نکالا جاتا ہے یا نہیں۔

گندم سبسڈی اور دیگر عوامی مطالبات سے متعلق موجودہ سرکاری معلومات میں بعض اصطلاحات اور قوانین کے سال مختلف حوالوں میں مختلف انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ اس خبر میں احتجاجی پروفیسرز کی طرف سے بیان کردہ مطالبات کو ان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری معلومات کو الگ سے واضح کیا گیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

جامعہ قراقرم کے پروفیسرز پریس کلب کے باہر احتجاج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں