column in urdu, land of beauty 0

جنت نظیر باشہ ویلی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ، نثار بھٹو شگری
آج ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ جو علم اور مسابقت کی صدی ہے۔ جہاں تعلیم کو مرکزی اہمیت ہے۔ جہاں وہی قوم سرفراز ہوگی جس کے باشندے پـڑھے لکھے اور جدید مہارتوں سے لیس ہوں گے۔
اب چلتے ہیں باشہ ویلی میں
باشہ ویلی کے عام افراد غربت اور بے چارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب بھی باشہ کے متعلق سوچتے ہیں ہمیں بیروزگاری, غربت, پھٹے پرانے کپڑے, خیموں کے نیچے اسکول میں پڑھتے بچے اور اس طرح کے بہت سے خطرناک مناظر دیکھنے میں ملتے ہیں. باشہ کے عوام آج بھی ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔
تعلیم صحت کے مسائل تو ایک طرف، باشہ کے باسیوں کے حالاتِ زندگی میں کوئی بہتری آئی اور نہ ہی ترقی و خوش حالی نصیب ہوئی۔
کسی بھی معاشرے میں موجود لوگوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت روزگار,صحت اور تعلیم کی ہوتی ہے. سب سے بڑھ کر تعلیم کا مسئلہ نہایت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے. کیونکہ تاریخ میں جن قوموں اور معاشروں نے ترقی کی ہے ان میں تعلیم کا کردار سب سے بڑا ہے. اور دنیا میں اس طرح کے کئی مثالیں موجود ہیں۔
باشہ میں تعلیم کا شعبہ مسائلستان بن چکا ہے ۔ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور جدید سہولیات کے فقدان سے تعلیمی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اقوام کی ترقی کا دارو مدار تعلیم کے شعبے کو ترقی دے کر طلباء کے لئے بنیادی سہولیات کو ممکن بنانا ہے مگر باشہ کے اکثر سکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔باشہ میں کئی ایسے جگے ہیں جہاں اب تک سکول کا نام ونشان تک نہیں ہہ اور بہت سے ایسے سکول ہیں جہاں ابھی تک بلڈنگ نہیں ہیں۔ اور بیٹھنے کو کرسی اور ڈیسک نہیں، صرف یہی نہیں بلکہ 250 طلباء کے لئے ایک ٹیچر جسکی وجہ سے مستقبل کے معمار آپ کو ہر روز اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہوے نظر آٸیں گے۔انہیں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کی کوئی مانیٹرننگ سسٹم نہیں ہے۔ کوئی جواب دہی نہیں ہے ۔جس کے جی میں جو آئے وہ من مانی کرتا ہے۔ بعض گاؤں تو ایسے ہیں کہ سکول میں طلبا ء کی تعداد تو 400 ہے مگر استاد صرف دو ہیں کیونکہ کوئی استاد ایسی جگہ اپنی تعیناتی کروانا پسند نہیں کرتا جہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہو اور اس کو زیادہ محنت کرنی پڑے۔
رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر ہم اساتذہ کو پرکھتے ہیں۔ان کی کیا تعلیم ہونی چاہئے،اس کی قابلیت اور اہلیت کا معیارکیا ہے، کیا وہ جو مضامین بچوں کو پڑھا رہا ہے اس پر اس کو دسترس حاصل ہے، کیا وہ طلبا کی سوچ اور ان کے ذہنی رجحان کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے،کیا وہ طلبا کو ایک اچھی اور مثبت سوچ دے سکتا ہے،ان باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ میٹرک اور مڈل پاس اساتذہ کو ہم نے قوم کا مستقبل سنوارنے کا ٹھیکہ دے دیا ہے۔جب قوم کی تقدیر ایسے نااہل اور جاہل استادوں کے ہاتھوں میں دے دی جائے گی تو انجام وہی ہو گا جو حالیہ 5th اور 8th کے رزلٹ کا ہوا تھا۔ محکمہ تعلیم سے منسلک اعلیٰ حکام کی عدم توجہی اور ناقص تعلیمی پالیسیوں جیسے گھمبیر مسائل ان سرکاری سکولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
میں سلام پیش کرتا ہوں اقراء فنڈ، یو او ایل ریلیف، البیان فاؤنڈیشن بلتستان، معاون فاؤنڈیشن اور دیگر ایسے نجی اداروں کو جو باشہ ویلی میں ایجوکیشن کو پروموٹ کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب آتے ہیں میڈیکل فیسیلیٹیز کی طرف۔ باشہ ویلی میں میڈیکل سھولیات بھی نہ ھونے کے برابر ہے۔ اتنے بڑے علاقے میں چند گاؤں میں ڈسپنسری کے نام سے ایک دو کمرے بنے ہیں مگر کچھ بھی سہولت موجود نہیں اور بہت سارے جگہوں پر ڈسپنسری کا نام ونشان تک ہے۔ہر گاؤں میں نرس اور ایل- ایچ- وی کا ہونا بہت ضروری بہت ضروری ہے مگر کچھ جگہوں کے علاؤہ باقی جگہوں پر وہ بھی میسر نہیں۔ جسکی وجہ سے لوگوں کو چھوٹی بیماری ہی کیوں نہ ہو دربدر پھرنا پڑتا ہے۔ سردیوں میں سڑک تین سے چار ماہ کے لیے بند ہو جاتی ہے۔ڈیلیوری کیسز یا کسی بھی ایمرجنسی صورت میں مریضوں کے پاس شدید تکلیف سہنے اور مرجانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔بہت سارے خواتین سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ڈیلیوری کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بھت سارے مریضوں کو کئی کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہسپتال پہنچانا پڑتا ہے۔ لمبا سفر اور خراب سڑک کی وجہ سے مریض ٹائم پہ ہسپتال نہیں پہنچ پاتا اس وجہ سے بہت سارے مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں وہ نازک مرحلے میں پہنچتے ہیں۔ جو کہ موجودہ ترقی یافتہ دور کی مناسبت سے سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔
سڑک کی بات کرے تو سڑک کچہ وتنگ، خستہ حالی اور پلوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتے ہیں۔اس سڑک پر صرف فور بائی فور ٹیوٹا ہی چل سکتی ہے۔یہ روڈ مکمل طور پر خراب اور بہت خطرناک ہے کسی بھی وقت گاڑی خادثے کا شکار ہو سکتا ہے ۔ اس سڑک پر سفر کرنے والے منزل مقام پر پہنچنے تک ان کی بری حالت ہو جاتی ہے۔ پلوں کی بات کرے تو باشہ ویلی میں جو پل بنے ہوئے ہیں ان کی لکڑیاں گل سڑ چکی ہیں جسکی وجہ سے آئیے روز گاڑی پلوں پر حادثے ک شکار بھی ہو رہے ہیں۔گاڑی پلوں پر پہنچنے پر پلوں کی خستہ حالی دیکھ کر پسنجرز مجبوراً گاڑی سے اس ڈر سے اتر جاتا ہے کی کہیں گاڑی خادثے کا شکار نہ ہو جائے۔ مسافر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
موبائل_نیٹ_ورک کی بات کرے تو آپ کو بتاتا چلوں کہ باشہ ویلی شاید دنیا کا وہ واحد خطہ ہوگا جہاں آج تک فون سگنل تک بھی میسر نہیں۔ دنیا سیونتھ جنریشن پہ پہنچ چکا ہے اور یہ علاقہ اب تک موبائل نیٹ ورک کی پہنچ سے بھی دور ہیں۔ گلگت بلتستان میں آج کل انٹرنیٹ بالخصوص فورجی نہ ہونے یا سگنل کی عدم دستیابی کا واویلا مچایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ضلع شگر کے علاقے (باشہ) موبائل نیٹ ورک کے لیے ترس رہے ہیں اس جدید دور میں بھی لوگوں کو اپنے کسی رشتہ دار یا گاؤں سے باہر کسی فیملی ممبر کو فون کرنا ہوا تو کئی گھنٹے سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
ارباب اختیار سے گزارش ہے ان باتوں کا نوٹس لے اور باشہ ویلی کو بنیادی سہولیات فراہم کیا جائے۔
column in urdu, land of beauty

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد تک کمی ہوگئی

50% LikesVS
50% Dislikes

جنت نظیر باشہ ویلی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ، نثار بھٹو شگری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں