تحقیق سے پتہ چلتا ہے، کینسر کی روک تھام میں غذائیت کا کردار، مسکان زہراء ماہر غذائیت
زیرنگرانی:ڈاکٹر ہماعنبرین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے، کینسر کی روک تھام میں غذائیت کا کردار، مسکان زہراء ماہر غذائیت
کینسر دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے، لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ طرزِ زندگی کے عوامل، خاص طور پر غذائیت، نہ صرف کینسر کی روک تھام بلکہ اس کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ کوئی ایک خاص غذا یا سپلیمنٹ مکمل طور پر کینسر سے بچاؤ کی ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن متوازن غذا جو مخصوص غذائی اجزاء اور خوراک کے گروہوں پر مشتمل ہو، کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ غذائیت جسم کے مدافعتی نظام، خلیوں کی مرمت، سوزش کی سطح، اور نقصان دہ مادوں کے اخراج کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جو سب کینسر کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مضمون ان اہم غذائی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے جو کینسر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
1. خوراک کا کینسر کے خطرے پر اثر
ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پھلوں، سبزیوں، مکمل اناج، دالوں اور صحت مند چکنائی سے بھرپور غذا کینسر کے خطرے کو کم کر سکتی ہے، جبکہ پروسیس شدہ غذاؤں، چینی، غیر صحت مند چکنائی، اور سرخ یا پروسیس شدہ گوشت کا زیادہ استعمال مختلف اقسام کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔ امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق، تقریباً 30% سے 40% کینسر کا تعلق خوراک، جسمانی سرگرمی اور وزن کے نظم و نسق سے ہوتا ہے۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں کیونکہ اس کے ہماری صحت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
2. اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمیکلز: قدرتی محافظ
غذائیت کا ایک سب سے زیادہ تحقیق شدہ پہلو اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمیکلز کا کردار ہے۔ رنگ برنگی سبزیاں اور پھل اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جیسے وٹامن سی، وٹامن ای، اور کیروٹینائڈز (جیسے بیٹا کیروٹین)۔ یہ مرکبات آزاد ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو غیر مستحکم مالیکیولز ہوتے ہیں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا کر کینسر کے خلیوں کی تشکیل میں معاون ہو سکتے ہیں۔
کچھ سبزیاں، جیسے بروکلی، گوبھی، کیل، اور برسلز سپروٹس میں گلوکوسینولیٹس پائے جاتے ہیں، جو ایسے سلفر پر مشتمل مرکبات ہیں جو جسم میں اینٹی کینسر خصوصیات والے مادے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح، بلیو بیریز، کھٹی پھلوں، اور پیاز میں پائے جانے والے فلیوونائڈز سوزش کو کم کرنے اور کینسر سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
3. فائبر: ہاضمے کی صحت کو فروغ دینا اور کینسر کے خطرے کو کم کرنا
خوراک میں فائبر کا مناسب مقدار میں شامل ہونا نظامِ ہاضمہ کے لیے بہت ضروری ہے۔ پھلوں، سبزیوں، مکمل اناج، اور دالوں میں موجود غذائی فائبر بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر نظامِ انہضام کو بہتر بناتا ہے، قبض سے بچاتا ہے، اور نقصان دہ مادوں کو جلدی خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، فائبر پری بایوٹک کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جو آنتوں میں صحت مند بیکٹیریا کی نشوونما کو فروغ دیتا ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جو کینسر کی روک تھام میں ایک اہم عنصر ہے۔
4. صحت مند چکنائی: خلیوں کے افعال کو سہارا دینا
چکنائی کی قسم بھی کینسر کے خطرے کو متاثر کرتی ہے۔ سیر شدہ چکنائی، جو سرخ گوشت اور پروسیس شدہ غذاؤں میں زیادہ ہوتی ہے، کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ زیتون کا تیل، گری دار میوے، بیج، اور ایواکاڈو میں پائی جانے والی صحت مند چکنائی سوزش کو کم کرنے اور خلیوں کے افعال کو سہارا دینے میں مدد دیتی ہے۔
اومیگا 3 فیٹی ایسڈ، جو چکنی مچھلی (جیسے سالمون اور میکریل)، السی کے بیج اور اخروٹ میں پایا جاتا ہے، سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روک سکتا ہے۔
5. پروٹین اور کینسر کی روک تھام
پروٹین جسم کی نشوونما اور مرمت کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا ذریعہ اہمیت رکھتا ہے۔ پودوں پر مبنی پروٹین، جیسے دالیں، ٹوفو، اور کوئنو، کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہیں، جبکہ سرخ گوشت، خاص طور پر پروسیس شدہ گوشت (جیسے ساسیجز، بیکن، اور ہاٹ ڈاگ)، کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
6. الکحل کا محدود استعمال
زیادہ مقدار میں الکحل کا استعمال مختلف اقسام کے کینسر، جیسے جگر، بڑی آنت، اور چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے کینسر کی روک تھام کے لیے الکحل کا استعمال کم یا بالکل ترک کر دینا بہتر ہے۔
7. صحت مند وزن برقرار رکھنا
موٹاپا کئی کینسرز کا ایک اہم خطرہ ہے، بشمول چھاتی، بڑی آنت، اور رحم کا کینسر۔ اضافی جسمانی چربی سوزش کو بڑھا سکتی ہے، ہارمونی تبدیلیاں کر سکتی ہے، اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو فروغ دے سکتی ہے۔
8. پانی کی مناسب مقدار اور کینسر کی روک تھام
اگرچہ پانی براہ راست کینسر کی روک تھام نہیں کرتا، لیکن مناسب ہائیڈریشن مجموعی صحت کے لیے ضروری ہے۔ پانی جسم کے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، جس سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
9. مجموعی صحت کے لیے متوازن نقطہ نظر
کینسر کی روک تھام ایک پیچیدہ عمل ہے، اور اگرچہ صرف غذا ہی کینسر سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، لیکن یہ خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ صحت مند غذا کے ساتھ ساتھ، باقاعدہ ورزش، صحت مند وزن کا برقرار رکھنا، اور تمباکو سے پرہیز بھی کینسر سے بچاؤ کے لیے ضروری عوامل ہیں۔
آخر میں، ایک جامع طرز زندگی اپنانا، جس میں اچھی غذائیت، جسمانی سرگرمی، تناؤ کا مؤثر انتظام، اور باقاعدہ طبی معائنے شامل ہوں، کینسر کے خطرے کو کم کرنے اور طویل مدتی صحت کو فروغ دینے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
نتیجہ: کینسر کی روک تھام کے لیے ایک جامع نقطہ نظر
کینسر کی روک تھام ایک پیچیدہ عمل ہے، اور اگرچہ صرف غذائیت کینسر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی، لیکن یہ خطرے کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسی غذا جو مکمل، غیر پروسیس شدہ خوراک پر مشتمل ہو، پودوں پر مبنی اجزاء کو ترجیح دے، اور سرخ گوشت، پروسیس شدہ کھانوں اور الکحل کے استعمال کو محدود کرے، وہ مختلف اقسام کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ غذا کے علاوہ، دیگر طرزِ زندگی کے عوامل جیسے باقاعدہ جسمانی سرگرمی، صحت مند وزن کو برقرار رکھنا، اور تمباکو سے پرہیز بھی کینسر کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔
بالآخر، صحت کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اپنانا، جس میں متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ کا مؤثر انتظام، اور باقاعدہ طبی معائنے شامل ہوں، کینسر کے خطرے کو کم کرنے اور طویل المدتی صحت کو فروغ دینے کی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔ تحقیق کے جاری رہنے کے ساتھ، ہم غذا اور کینسر کے درمیان پیچیدہ تعلق کو مزید بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں کینسر کی مزید مؤثر روک تھام کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔
column in urdu, Nutritionist
بجلی کی قیمتوں میںبڑی کمی کا امکان، وزیر اعظم نے پاور سیکٹر کے اعلی اجلاس میں فیصلہ