شگر ۔ عوامی چراگاہ ژھے تھنگ پر ممکنہ سرکاری قبضے کے خلاف شگر کے عوام میدان میں آگئے گرین ٹورازم نامنظور کے نعرے بلتستان یونیورسٹی ایک متنازعہ وائس چانسلر کی وجہ سے نیک کی بجاے مسلسل بد نامی کے جانب گامزن ہے علماء امامیہ شگر شگر ژھے تھنگ آباد کاری میں ضلعی انتظامیہ کی مسلسل رکاوٹ خلاف خلاف ضلع شگر میں پر امن احتجاج بلتستان یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ آف کیو ای سی کے زیر اہتمام سیلف گریجویٹ پروگرام ریویو (S-GPR) کا دوسرا اور آخری سیشن کامیابی کے ساتھ تکمیل پذیر ہوا بلتستان یونیورسٹی کوالٹی انہاسمنٹ سیل کے تحت جاری دو روزہ سیشن اختتام پذیر شگر ، محکمہ خوراک گلگت بلتستان بائیو میٹرک کے بجائے عوام کو گندم فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے عابد استوری گلگت بلتستان صوبائی کابینہ کا بارہواں اجلاس، گرین ٹوریزم کے ساتھ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کےحوالے سے معاہدے پر بریفننگ شگر، موجودہ تحصیلدار 10جون کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں غازیان شگر عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر ضلعی انتظامیہ استور اور ننگاپربت ایونٹ آرگنائزر کے زیر اہتمام ایک شانداد تقریب گرلز ہائر سکینڈری سکول گوری کوٹ میں منعقد ہوئی صوبائی وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا سے یو لرننگ کے سی ای او وسیم احمد اور ڈائریکٹر مدثرنت نے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کے بارے میں گفتگو

بواشاہ عباس کی شاعری پر ایک طائرانہ نظر

بواشاہ عباس کی شاعری پر ایک طائرانہ نظر
سر نامہ تحریر اور زبان مجالس دین حضرت بواشاہ عباس کا تعلق صرف اس کی بلند افکار، رفعت کردار اور اوج کمال تخیل کا ہی نہیں البتہ جس نیک اختر دھرتی ماں کو اس عظیم المرتبت ہستی بے مثل و نظیر کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا۔اسے موضع چھورکاہ کا محلہ خنمیکا ہ کہا جاتا ہے۔ بلتی زبا ن کے اس اسم کا اردو معنی ستون فلک بنتا ہے۔ وجہ تسمہ جو بھی ہو اب اس سنسان سے محلے کی وجہ شہرت اعلیٰ حضرت بوا شاہ عباس رحمتہ کی شخصیت خود ایک عالم باعمل، علم بیان و عرض پر ایسی مہارت کہ مشکل سے مشکل بحراوزان میں بلندی تخیل، با معنی اور دلچسپ لفظ گری اور سادہ ترین بندش کے ساتھ کمال فن کے وہ مظاہر تخلیق کئے ہیں۔جو کما حقہ عقیدت سے بھر پور اور سعادت و برکات سے بھر پور محافل و مجالس کیلئے باعث زینت ہے۔ ان کے کلام میں جو تاثیر ہے بعینہ اس کے در پر دہ ان کا تصوفانہ فکر و عمل، علم و حکمت اور درویشانہ طرز زندگی کے وہ حقیق تجربات کار فرما ہیں۔ جو مودت اور عقیدت کے اظہار میں کسی طور خالی و خیالے فکر و سخن کی گنجائش مسدود کر دیتے ہیں۔ بلتستان کے علاوہ ایران و تبت اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں بلتی بولی اور سنی جاتی ہے۔ وہاں محافل آئمہ طاہریں اہلبیت ؑ اطہار شہدائے کربلا اور معصومیں ؑ و مظلومین کی بارگاہان باسعادت میں ارمغان عقیدت پیش کرنے کے لئے ان کے عظیم کلام ہی یکساں منظور و مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے قصائد میں ان تمام برگزیدہ ہستیوں کے من جملہ فضائل و اعلیٰ مراتب کے ساتھ ساتھ ان کے خوشحالی اور اخلاق و بزرگی کی شایان شان مدحت سرائی کی خاطر اہل دل اور محبان آئمہ و اہلبیت ؑ کو جن موتیوں کے ضرورت محسوس ہوسکتی تھی، اعلیٰ حضرت بواعباس نے ان کا نہ صرف پیشگی مداوا فرمایا بلکہ اعلیٰ ترین اشعار کی صورت میں لڑیاں پرو کر رکھ دی ہیں۔ ان کے فن پر تبصرہ کرنا مجھ ایسے کچھ فہم اور عرفان و تصوف سے تہی نا تواں شخص سے کجاکاردارد۔ افسوس ہے کہ تاریخ بلتستان اپنے کئی حوالوں سے بہ تنگی چشمحسودگی شکار ہے۔ اور بقدر لب و دندان مورخین ضخامت اور قدامت سے محو ہوتی رہی ہے۔تاہم حضرت بواعباس کے حوالے سے دو چند سطور کتب کے مقدمے کے طور پر دستیاب ہیں۔انہی سے معلوم ہوتا ہے کی ان کی زندگی من جملہ دیگر تبتی باسیوں کی مانند دستی و فاقہ مستی سے عبارت تھی۔ اجرت پر دوسروں کی بھیڑ بکریاں چراکر گزر بسر کیا کرتے تھے۔عیں غربت میں بھی پندار دین و ایمان کا پاس ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ دوران طالب علمی میں ہی ہاتھ لگے سونے کو بھی دیانتداری سے لوٹاکر اپنے استاد کی نظر میں عزت و تکریم حاصل کر لی۔ رفعت کردار اور کمال علم و فن کی بنیاد پر راجاوں کے اتالیق بھی رہے مگر اپنی صلاحیتوں کا مان رکھنے میں اسد اللہ غالب کا سا مزاج رکھتے تھے۔ راجا علی شیر خان نے جب ادبی مباحثے میں سعدی شیرازی کے کسی فارسی شعر پر سید فضل شاہ اور بوا عباس میں تکرار پر مصلحتاً سید فضل شاہ کی تائید کی تھی۔ بوا عباس دوسری دن علی الصبح خپلو سے کوچ کر گئے۔ راجہ کی طرفسے بھیجے گئے آدمیوں کو جواب دیاکہ میں ایسے بے مروت اور بے قدرے راجہ کی صحبت میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوں جو ادبی بحث و مباحثے میں مصلحت کا شکار ہو کر سعدی شیرازی اور میری توہین کرنے پر آمادہ ہو۔ حیات و ممات کی کشمکش اور غربت و تنگدستی کے ان دنوں میں بھی انھیں فکر معاش کی بجائے علم و حکمت کی تلاش رہی۔ انھیں عربی اور فارسی زبان پر نہ صرف عبور حاصل تھا بلکہ فارسی ادب کے بیحد دلدادہ تھے۔ علم و معرفت کی وجہ سے وسعت نظری ایسی حاصل تھی کی نہ صرف عیسائی مشن کے ساتھ انسپکٹر کے طور پر کام کیا بلکہ انجیل مقدس کا بلتی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔صوفیانہ طرز زندگی کی چھاپ ان کی شاعری اور ادب پر بھی بصد حسن و خوبی نظر آتی ہے۔ دیگر تمام نامی گرامی شاعروں کی مانند آپ بھی حضرت علیؑ کے سچے عاشق اور عقیدت مند تھے۔ ان شان میں لکھی بہت سے قصیدے فنی، تکنیکی بیان و معانی اور علم و عرفان کے اعتبار سے شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلتی شاعری میں آپ کے قصائد، مناقب اور حمد و نعت، تخیلاتی وسعتوں، ایمان و عقیدت کی چاشنی، علم و حکمت اور تشبیہات و تلمیہات کی خوبصورتی سے مزین ہیں۔دینی علوم کے ساتھ ساتھ جغرافیہ و فلسفہ اور سائنس پر نہ صرف دسترس رہتے تھے بلکہ ان کا اظہار اپنے اشعار میں کھل کر کیا کرتے تھے۔